غلام حسین ساجد ۔۔۔ لہو کا رنگ ہوں مَیں، آئنے کا خواب ہوں مَیں

لہو کا رنگ ہوں مَیں، آئنے کا خواب ہوں مَیں
اُسے خبر ہی نہیں کس قدر خراب ہوں مَیں

مجھے بدلنا تھا لیکن بدل نہیں پایا
وہی سوال ہوں مَیں اور وہی جواب ہوں مَیں

جو بات دل میں ہے میرے وہی زباں پر ہے
وہ جانتا ہے مجھے اِک کُھلی کتاب ہوں مَیں

دِکھائی دیتا ہوں لیکن مَیں ہاتھ آتا نہیں
جو سب کی پیاس بڑھائے وہی سراب ہوں مَیں

مِرے وجود سے مِلتی ہے روشنی سب کو
دیارِ وحشتِ دل کا نیا نصاب ہوں مَیں

مَیں روز خواب میں اُڑنے کا لطف لیتا ہوں
مگر گمان یہ ہوتا ہے زیرِ آب ہوں مَیں

کسی کے قلب کی آسودگی ہوں مَیں ساجدؔ
کسی حَسین کے سینے کا پیچ و تاب ہوں مَیں

Related posts

Leave a Comment